ابنا: گریٹر مڈل ایسٹ" کا تصور پہلی بار کولن پاول کی جانب سے پیش کیا گیا جس کا مقصد اقتصادی، سیاسی اور معاشرتی میدان میں اصلاحات انجام دینے میں عرب ممالک کی مدد کرنا تھا۔ اگرچہ عرب ممالک اس منصوبے کے شدید مخالف تھے اور یورپی ممالک بھی اس منصوبے پر اپنے تحفظات لئے ہوئے تھے لیکن نائن الیون کے دہشت گردانہ اقدامات کے بعد امریکہ نے اس منصوبے پر سنجیدگی سے عمل کرنا شروع کر دیا۔
اس منصوبے کے تناظر میں یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں خطے میں اپنے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اپنائی گئی روش جس میں خطے کے مقامی باشندوں کو بالکل نظرانداز کرتے ہوئے یکطرفہ فوجی اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے، باعث بنی ہے کہ خطے میں جمہوری عمل کا آغاز معینہ مدت کیلئے تاخیر کا شکار ہو جائے۔
"اسلامی مشرق وسطی" کی اصطلاح پہلی بار 2006ء میں حزب اللہ لبنان کے خلاف 33 روزہ جنگ میں اسرائیل کی عبرت ناک شکست کے بعد استعمال میں لائی گئی۔ اس اصطلاح کا استعمال درواقع اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے "نیو مڈل ایسٹ" کی اصطلاح کے مقابلے میں عمل میں آیا۔ ہم نے اس مقالے میں یہ جائزہ لینے کی کوشش کی ہے کہ آیا "اسلامک گریٹر مڈل ایسٹ" امریکی تصور "گریٹر مڈل ایسٹ" کے مقابلے میں قابل تحقق ہے؟ اور اس منصوبے کو درپیش چیلنجز کیا ہیں اور انکا مقابلہ کیوں کر کیا جا سکتا ہے؟
مقدمہ: اسلامی مشرق وسطی کے قیام کی صورت میں خطے پر نئی سیاسی فضا حکمفرما ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں معاشرے کی تشکیل اور اس کی مدیریت اور انسانی معاشروں میں عدالت، احترام اور آزادی کے قیام کیلئے مکمل طور پر اسلام کا سہارا لیا جائے گا۔ اسلامک مڈل ایسٹ خطے میں موجود آمرانہ حکومتوں کو چیلنج کرنے کے علاوہ خودمختار اسلام پسند حکومتوں کے قیام کا زمینہ فراہم کرے گا اور مغربی جمہوریت کے نسخے پر بھی خط بطلان کھینچ دے گا۔
اسی طرح امریکہ سے نفرت اور بیزاری کی شدت میں اضافہ ہو گا اور تسلط پسندی اور جاہ طلبی پر مبنی اس کا حقیقی چہرہ آشکار ہو جائے گا جس کی پوری کوشش ہے کہ خطے کو ایک فوجی بیرک میں تبدیل کر کے اس میں موجود تمام قدرتی وسایل کے ذخائر کو اپنے قبضے میں لے لے۔
گریٹر اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام کی صورت میں اسرائیل کا جعلی پن بھی کھل کر سامنے آ جائے گا اور خطے کی کوئی حکومت اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہو گی۔ دوسری طرف امریکہ کی جانب سے پیش کردہ "گریٹر مڈل ایسٹ" کا منصوبہ خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کیلئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد امریکی مفادات کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اسلامی مشرق وسطی کا قیام خطے میں ایران کی طاقت میں اضافے اور اس کا عالم اسلام کیلئے ام القری میں تبدیل ہو جانے کا باعث بنے گا جو عالمی استعماری نظام کے مفادات کا نقطہ مقابل تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں خطے کے ممالک خام تیل کو عالمی استکباری قوتوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو عالمی استعماری نظام کیلئے ایک شدید اسٹریٹجک خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسلامک مڈل ایسٹ کے تحقق کی صورت میں ایک طاقتور اسلامی بلاک امریکی من مانی پر مبنی موجودہ ورلڈ آرڈر کو بری طرح دھچکا پہنچانے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔
دین مبین اسلام کا وسیع ہونا، مشرق وسطی کے خطے کا آئیڈیالوجیک ہونا، مڈل ایسٹ کی جیو اسٹریٹجک پوزیشن، دنیا کے قدرتی وسائل کے 60 فیصد حصے کی اس خطے میں موجودگی، عظیم انسانی قوت، جدید ٹیکنولوجی سے لیس ہونا اور ایسی ہی دوسری خصوصیات اسلامی مشرق وسطی پر مشتمل اسلامی بلاک کو ایک طاقتور بین الاقوامی کھلاڑی میں تبدیل کرنے کیلئے کافی ہیں۔
جدید اسلامی مشرق وسطی کی خصوصیات: حال حاضر میں خطے کی مسلمان اقوام کی مرکزیت میں اسلامی مزاحمت اور اسلامی بیداری پر مشتمل سوچ تیزی سے زور پکڑ رہی ہے۔ عرب نیشنلزم اور سوشلزم کی بنیاد پر بننے والے منصوبوں کی واضح ناکامی کے بعد خطے میں ایک نظریاتی خلاء وجود میں آ چکا ہے جس کی وجہ سے اسلامی مزاحمت کی سوچ اور تفکر انتہائی تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے۔ موجودہ حالات میں خطے کی اقوام اپنی محافظہ کار اور سازباز کی طرف متمایل حکومتوں کی نسبت زیادہ تیزی سے اسلامی تفکر کی جانب گامزن نظر آتی ہیں۔
امریکہ اپنے "نیو مڈل ایسٹ" میں اسلامی تفکر کے خاتمے کے منصوبے بنا رہا تھا لیکن خطے میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان اقوام کے اتحاد اور مفاہمت کی روشنی میں اسلامی بیداری کی امواج بلند سے بلندتر ہوتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے اسلام پسندی کو ختم کرنے والی سازشیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔
جدید اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور اہم خصوصیت امریکہ کی مخالفت اور اس سے دوری ہے۔ اگرچہ امریکہ کی پوری کوشش تھی کہ ایک ایسا جدید مشرق وسطی معرض وجود میں لائے جو مکمل طور پر اس کے پنجوں میں ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت جلد امریکی مداخلت کے خلاف ایک بڑا محاذ وجود میں آنے والا ہے۔ اس بات کا اندازہ امریکی رہنماوں کے دوروں کے دوران برپا ہونے والے عوامی مظاہروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
اعراب اور اسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات میں ثالثی کا کردار نبھاتے ہوئے امریکہ کا غیرصادقانہ رویہ اور اسرائیل کی جانب واضح جھکاو اور اس کی بے چون و چرا حمایت اور جمہوریت اور انسانی حقوق سے متعلق دوگانہ معیار اپنائے جانا جس کی ایک واضح مثال حماس کی جمہوری حکومت کو تسلیم نہ کرنا ہے، جیسے اقدامات خطے کے عوام میں امریکہ کی نسبت بدبینی اور عدم اعتماد پیدا ہونے کا باعث بنے ہیں۔
دوسری طرف خطے میں اسلام پسند مزاحمتی گروہوں کی طاقت میں اضافہ اور عوام کے دلوں میں ان کی روز بروز بڑھتی ہوئی محبوبیت جدید اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور اہم خصوصیت جانی جاتی ہے۔ درحقیقت مشرق وسطی میں جاری سیاسی تبدیلیاں نت نئے سیاسی کھلاڑیوں کے میدان سیاست میں نمودار ہونے کا باعث بنی ہیں جن کی وجہ سے ماضی کی سیاست میں انتہائی بنیادی تبدیلیاں رونما ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ وہ ایسے مشرق وسطی کی تلاش میں ہیں جو بیرونی قوتوں کی مداخلت سے آزاد ہو۔ یہ نئے سیاسی کھلاڑی اسلامی تشخص اور مزاحمت کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنے مفادات کا تعین کرتے ہیں۔
اسلامک مڈل ایسٹ درحقیقت نیو گریٹر مڈل ایسٹ نامی امریکی اور مغربی منصوبے کا نقطہ مقابل ہے۔ اسلامی مشرق وسطی کی بنیاد "خودمختاری اور استقلال" پر ہے جبکہ گریٹر مڈل ایسٹ پر مبنی امریکی اور مغربی منصوبہ تسلط پسندی اور استعماری اہداف پر مبنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی مشرق وسطی کے قیام نے مغربی طاقتوں اور خطے میں موجود ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں اور رہنماوں کو شدت سے پریشان کر رکھا ہے۔ وہ چیز جس کے مشرق وسطی میں تحقق سے مغربی دنیا انتہائی خوفزدہ ہے یہ ہے کہ خطے کے ممالک اور اقوام مغربی وابستگی سے نکل کر خودمختاری اور آزادی کی جانب گامزن ہو جائیں۔ اور اگر یہ آزادی خواھی اور خودمختاری کی طرف جھکاو اسلامی تشخص کی چاشنی سے بھی ہمراہ ہو تو اس میں مغرب کے ساتھ عالم اسلام کی سالہا سال وابستگی کو ختم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہو گی۔ عالم اسلام جو بے پناہ اقتصادی اور سیاسی صلاحیتوں اور قابلیتوں سے سرشار ہے دنیا کے تمام دوسرے مکاتب فکر اور مادی نظاموں کو آسانی سے پچھاڑ سکتی ہے۔
اسلامی مشرق وسطی کی ایک اور خصوصیت اس خطے میں بسنے والے افراد کی جانب سے مشترکہ مذہبی تشخص جیسے عظیم پوٹینشل کو بروئے کار لانے پر تاکید ہے۔ اس خصوصیت کی بنیاد پر خطے کے ممالک واحد اسلامی تشخص کو اپنا محور بناتے ہوئے گذشتہ تین عشروں سے درپیش چیلنجز اور مغربی استعماری سازشوں کے مقابلے کیلئے آپس میں متحد ہو جائیں گے اور اس طرح خطے کو درپیش جدید ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ایک جدید شناخت اور ڈھانچہ منظرعام پر آئے گا۔
آج مشرق وسطی کی سرزمین اسلامی تشخص اور اسلامی مزاحمت کی برکت سے ہر دور سے زیادہ طاقتور اور استعماری قوتوں کی مذموم سازشوں کے مقابلے میں کامیابی سے ہمکنار نظر آتی ہے۔ ایران، لبنان، عراق، ترکی، شام، سوڈان، مصر، فلسطین، افغانستان اور پاکستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالئے اور اسے گذشتہ صدی کی ستر یا اسی کی دہائی سے موازنہ کر کے دیکھیں۔ ہم واضح طور پر ان قوموں کی جانب سے خودمختاری اور خودکفائی کی جانب حرکت کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ مشرق وسطی میں اسلامی مزاحمت کے مرکز اور محور نے اسلامی تفکر کی بنیاد پر گریٹر مڈل ایسٹ کے مورچوں کو یکے بعد از دیگرے فتح کر لیا ہے اور اب خطے کی عوام کی مشترکہ ثقافتی اقدار کی بنیاد پر خودمختاری اور آزادی کی طرف گامزن ایک نئے "اسلامی مشرق وسطی" کے قیام کا وقت آن پہنچا ہے۔
اسلامی مشرق وسطی کی تشکیل میں درپیش چیلنجز: 1. امریکی اہداف و مفادات اور مشرق وسطی میں موجود تشخص و اقدار کے درمیان تضاد:جدید اسلامک مڈل ایسٹ کے قیام میں درپیش چیلنجز کا بڑا حصہ دراصل وہ اہداف ہیں جن کی خاطر امریکہ اور مغربی قوتوں نے گریٹر مڈل ایسٹ کا ناپاک منصوبہ پیش کیا ہے۔ ” امریکہ اور مغربی دنیا کی جانب سے بنائی جانے والی ان تمام شیطانی سازشوں کا مقصد دین مبین اسلام کی نابودی ہے۔ “ایسا دکھائی دیتا ہے کہ مغربی طاقتوں کی تمام تر موجودہ سازشوں اور منصوبوں کا واحد مقصد خطے میں پیدا ہونے والی اس لہر کو نابود کرنا ہے جو خطے کی مسلمان عوام کی جانب سے روحانی اور الہی اقدار کے احیاء کی خاطر معرض وجود میں آئی ہے۔ گریٹر مڈل ایسٹ نامی امریکی منصوبے کا اصلی مقصد خطے میں واقع تیل کے ذخائر تک پہنچنا یا یورپی یونین، چین اور روس کو کنٹرول کرنا نہیں بلکہ اس کا حقیقی ہدف خطے کے اسلامی معاشروں کے دینی اعتقادات، اسلامی رویوں اور عادات کو تبدیل کرنا ہے یا دوسرے الفاظ میں یوں کہ سکتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی دنیا کی جانب سے بنائی جانے والی ان تمام شیطانی سازشوں کا مقصد دین مبین اسلام کی نابودی ہے۔
لہذا امریکی خارجہ سیاست میں "حکومت سازی"، "قوم سازی"، "ثقافت سازی"، اور "مذہب سازی" سے متعلق پائے جانے والے نظریات کو اس ملک کے اصلی ہدف یعنی اسلام جیسے آفاقی دین کو محو کرنا کے تناظر میں دیکھے جانے کی ضرورت ہے۔
2. اسلامی مشرق وسطی کے قیام کو روکنے کیلئے نرم جنگ پر مبن